اسمارٹ فونز استعمال کرنیوالے خبردار، مفت وائی فائی مہنگا پڑسکتا ہے

فوٹو فائل
فوٹو فائل

آئی فون اور اینڈرائیڈ استعمال کرنیوالے خبردار ہوجائیں کیونکہ مفت میں وائی فائی استعمال کرنے کی وجہ سے ہیکرز آپ کے موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

ہیکرز نے اسمارٹ فونز استعمال کرنیوالوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کیلئے جعلی وائی فائی نیٹ ورک کا استعمال شروع کردیا ہے، اور یہ ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور سفر کے دوران کسی بھی صارف پر با آسانی حملہ کرسکتے ہیں۔

کیونکہ ہیکرز نے وائی فائی کی سہولت دینے والے اداروں کے قریب برانڈ کے ناموں کا استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی وائی فائی نیٹ ورک ترتیب دیا ہے، تاکہ صارفین کو اس سے منسلک کرکے انہیں آسانی کے ساتھ جھانسہ دیا جاسکے۔

اس جعلی وائی فائی سے ایک مرتبہ منسلک ہونے کے بعد متاثرہ صارف کا وہ تمام ڈیٹا جو وہ اس نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کرتا ہے، ہیکرز کے زیر کنٹرول سرور سے گزرتا ہے، اور بعض صورتوں میں وہ آپ سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا جی میل کو استعمال کرتے ہوئے سائن ان کرنے کا کہہ سکتے ہیں، ایسا کرنے سے آپ کا پاس ورڈ ضائع بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے ہیکرز کے اس حملے کو’ایول ٹوئن‘ قرار دیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ بدقسمی سے اس قسم کے وائی فائی نیٹ ورکس کا پتہ لگانا خصوصی ٹولز کے بغیر مشکل ہے، تاہم کچھ نشانیاں ہیں جو اس حملے کو ظاہر کرسکتی ہیں اور آپ کو اس سے بچنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

جب آپ کسی بھی جگہ پر وائی فائی کا استعمال کریں تو پہلے نیٹ ورک کا نام معلوم کرلیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جہاں آپ وائی فائی استعمال کررہے ہیں وائی فائی نیٹ ورک اس نام سے ملتا بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر آپ کو اس سے ملتے جلتے نام نظر آئیں تو سمجھ جائیں کہ کسی نے جعلی سیٹ اپ لگایا ہوا ہے، پھر بھی اگر آپ کو اسے سمجھنے میں مشکل ہورہی ہو تو  وہاں کے عملے سے وائی فائی نیٹ ورک کے نام کی تصدیق کرلیں۔

کچھ وائی فائی نیٹ ورکس سائن اپ کرنے کیلئے رجسٹر کرتے ہیں، مگر یہ کبھی بھی آپ سے ذاتی تفصیلات طلب نہیں کرتے اور نہ ہی آپ کی معاشی تفصیل معلوم کرتے ہیں، تو آپ کو چاہیے کہ آپ انہیں اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے اکاؤنٹس اور پاس ورڈ تک رسائی کبھی بھی کسی کو نہیں دیں۔

اگر آپ کو کسی عوامی نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے دوران خرابی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں یا یہ اکثر منقطع ہو رہا ہے تو یہ ’ایول ٹوئن‘ کی طرف سے ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس طرح کے مسائل ایک حملہ آور کی وجہ سے ہوسکتے ہیں۔‘

Leave a Comment