اجتماعی نماز انفیکشن کا سبب نہیں بن سکتی، 67 فیصد پاکستانیوں کی رائے

0
20


پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو کوروناسے متعلق معلومات مقامی میڈیا نے پہنچائیں تاہم حکومت صرف 5 فیصد پاکستانیوں کو آگاہ کرسکی— فوٹو: فائل 

عالمی مارکیٹنگ اور تحقیقی ادارے اِپ سوس (آئی پی ایس او ایس) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 88 فیصد لوگ کورونا وائرس کے بارے میں جانتے ہیں جن کی اکثریت کو مہلک وبا سے متعلق معلومات مقامی میڈیا نے پہنچائیں۔

پورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی کورونا وائرس کے بارے میں معلومات میں فروری سے اب تک 19 فیصد اضافہ ہوا ہے، فروری سے اب تک ہاتھ دھونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 47 فیصد سے 89 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم ایک تہائی پاکستانی اب بھی مصافحہ کرتے ہیں اور گلے ملتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 7 ہفتوں میں یہ احساس زیادہ ہوا ہے کہ کورونا پاکستان کے لیے خطرہ بن رہا ہے، 5 میں سے 2 یا 38 فیصد پاکستانیوں کو کورونا کی سرکاری ہیلپ لائن کا پتہ ہے جبکہ 5 میں سے 3 یا 61 فیصد پاکستانیوں کو وبا کے حوالے سے امداد دینے والی تنظیموں کا علم ہے۔

عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 56 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک مساجد اور دیگر مذہی مقامات کو ریلیف کی تقسیم کے لیے استعمال ہونا چاہیے جبکہ 82 فیصد پاکستانیوں کے خیال میں دن میں 5 بار وضو کرلینے سے کورونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 67 فیصد کے نزدیک باقاعدہ بھاپ لینا بچت کا ذریعہ ہے جبکہ 67 فیصد کہتے ہیں وائرس سمیت ہر چیز اللہ کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اجتماعی نماز کسی انفیکشن کا سبب نہیں بن سکتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر 5 میں سے 2 یا 43 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک کورونا وائرس ایک مخصوص فرقے کی وجہ سے پھیلا جبکہ 30 فیصد کے مطابق سماجی میل جول اور 43 فیصد کے مطابق وائرس کے پیچھے عالمی سازش ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو کوروناسے متعلق معلومات مقامی میڈیا نے پہنچائیں تاہم حکومت صرف 5 فیصد پاکستانیوں کو آگاہ کرسکی جبکہ 5   میں سے  2 پاکستانیوں کو ٹائیگر فورس کے بارے میں علم ہے، 45 فیصد پاکستانیوں کے مطابق ٹائیگر فورس کی بجائے لوکل گورنمنٹ بہتر حل ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 95 تک جاپہنچی ہے جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی 5 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here